حلقہ بندیوں کا معاملہ: پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس آج بھی بے نتیجہ ختم

اسلام آباد(بی بی سی ایشیاء)حلقہ بندیوں سے متعلق پارلیمانی پارٹی کا چوتھا اجلاس بھی بے نتیجہ ختم، شیخ رشید احمد اور محمود اچکزئی کے درمیان جھگڑا، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کے لئے حکومت نے کوئی گرین سگنل نہیں دکھایا، معاملہ مزید بگڑ گیا، گیند حکومت کی کورٹ میں چلا گئی، اگلا اجلاس کب ہوگا کوئی نہیں جانتا۔ تفصیلات کے مطابق سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمانی رہنماؤں کی چوتھی بیٹھک میں بھی پیپلز پارٹی اپنے مطالبے پر ڈٹی رہی کہ حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم پارلیمنٹ سے پہلے مشترکہ مفادات کونسل سے منظور کرائی جائے، جبکہ ایم کیو ایم بھی اپنے موقف پر قائم رھی۔ اجلاس کے بعد شیخ رشید احمد نے بتایا کہ محمود اچکزئی کے ساتھ میرا جھگڑا ہوگیا ہے، محمود اچکزئی ہمیں ڈراتے ہیں، ہر موقع پر کہتے ہیں پاکستان ٹوٹ جائے گا، حکومت کے 188 ارکان پورے نہیں، 63 ارکان ٹوٹ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا حکومت اپنے 188 ارکان لے آئے ہم حمایت کریں گے۔ سپیکر ایاز صادق نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تمام جماعتوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انتخابات وقت پر ہونے چاہیں، پیپلز پارٹی کا معاملہ سی سی آئی کو بھیجنے کا مطالبہ ہے لیکن کچھ جماعتوں کا کہنا ہے کہ سی سی آئی کو بھیجنا ضروری نہیں، اب حکومت نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ سی سی آئی کا اجلاس بلاتی ہے یا نہیں۔ ایاز صادق نے کہا ایم کیو ایم کے تحفظات بھی حکومت نے سن لئے ہیں، اب حکومت مشاورت کر کے بتائے گی تو اس کے بعد پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بلایا جاسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ڈی جی قانون محمد ارشد خان نے کہا کہ فی الحال الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں نھیں جارہی، ہم نے سیاسی جماعتوں کو 10 نومبر تک کی ڈیڈ لائن دی ہے، اگر 10 نومبر کے بعد بھی ہفتہ دس دن مزید دینے پڑے تو ہم کور کر لیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *