نوازشریف کیخلاف تینوں ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد(بی بی سی ایشیاء) احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تینوں ریفرنسز یکجا کرنے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا، فیصلہ کل سنا جائے گا۔ لندن فلیٹس ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر نے بھی کیلیبری فونٹ کے استعمال سے متعلق الزام کے خلاف درخواست دائر کر دی۔ تفصیلات کے مطابق وکیل خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے کہا کہ تینوں فرد جرم میں الزامات ایک جیسے ہیں، نوازشریف کے عوامی عہدہ رکھنے، بے نامی دار کی بات اور ضابطہ فوجداری کے حوالے بھی مشترک ہیں۔ کراچی میں نیب نے نیٹو کنٹینر کیس میں 49 ریفرنس دائر کئے بعد میں ریفرنسز کو یکجا کیا گیا تو ملزم عدالتوں سے بری ہوا، تینوں ریفرنسز میں 9 سے زائد گواہان بھی مشترک ہیں۔ خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا ضابطہ فوجداری کی شق 233 کے تحت ایک الزام کا الگ الگ ٹرائل نہیں کیا جاسکتا۔ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے اس کیس میں سترہ ڈی کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں، نیب آرڈیننس کی یہ شق ایک فرد سے متعلق ہے۔ سترہ ڈی اس کیس میں قابل اطلاق ہی نہیں، لندن فلیٹس ریفرنس میں الگ جرم کا ارتکاب ہوا ہے، تمام ریفرنسز میں تمام ملزمان کے کردار مختلف ہیں، نام اور ڈیپارٹمنٹ ایک ہونے سے گواہ ایک جیسے نہیں ہو جائیں گے۔ نیب پراسیکیوٹر نے مزید کہا ایک جوان ہوتا بچہ ملین ڈالر کی امپائر کھڑی نہیں کرسکتا۔ دوسری جانب لندن فلیٹس ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نے کیلیبری فونٹ کے استعمال سے متعلق الزام کے خلاف درخواست دائر کر دی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کیلبری فونٹ سے متعلق جعلسازی کا الزام ثابت ہونے تک فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی، الزام ثابت ہونے پر قانون کے مطابق الگ مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ قبل ازیں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر ایک ہی گاڑی میں احتساب عدالت پہنچے۔ مریم اورنگزیب، طلال چوہدری، پرویز رشید راجہ ظفرالحق، طارق فضل چوہدری سمیت دیگر لیگی رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے۔ خیال رہے گزشتہ سماعت پر جج احتساب عدالت کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ موصول نہیں ہوا، درخواستوں پر دلائل نہیں سن سکتے۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *