پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیوایم کے درمیان حکومت سازی کا معاہدہ طے پا گیا

پی ٹی آئی اورایم کیوایم میں حکومت سازی کامعاہدہ طے پاگیا

بی بی سی ایشیاء(اسلام آباد) پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیوایم کے درمیان حکومت سازی کا معاہدہ طے پا گیا ہے، ایم کیوایم اور پی ٹی آئی مرکزاور سندھ میں ملکر حکومت بنائیں گے۔ ایم کیوایم کے وفد نے خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی، وفد میں عامرخان، کنور نوید جمیل اور فیصل سبزواری بھی شامل تھے۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیوایم کے وفد نے خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی، جس میں مرکز اور سندھ میں حکومت سازی سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔عمران خان سے ملاقات میں ایم کیوایم اور تحریک انصاف کے درمیان حکومت سازی کے حوالے سے معاہدے پر اتفاق کیا گیا اور میمورنڈم پر بھی دستخط ہوئے۔

پی ٹی آئی رہنماء جہانگیرترین نے کہا کہ کراچی کیلئے اسپیشل پیکج دیں گے، جبکہ ایم کیوایم کے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، دھاندلی والے حلقے کھولنے اورکراچی آپریشن کا زیادتیوں کاجائزہ لینے کا معاہدہ کیا۔

بعدازاں پی ٹی آئی رہنماء جہانگیرترین نے ایم کیوایم کے وفد کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے 9آزاد ارکان پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے ہیں اور فاٹا ارکان سے بھی رابطے میں ہیں۔

ایم کیوایم پاکستان کا مکمل تعاون حاصل ہے۔۔ایم کیوایم سے مکمل معاہدہ طے پا گیا ہے۔۔ایم کیوایم حکومت سازی میں ہمارے ساتھ ہے۔ہمارا منشور بلدیاتی نظام کوسب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایم کیوایم کی لوکل گورنمنٹ پٹیشن کوہم نے سپورٹ کیا ہے۔۔پولیس اصلاحات کریں گے ،،پولیس کے نظام میں بہتری لائیں گے۔۔کراچی میں لوگوں نے ہمیں اور ایم کیوایم کوووٹ دیا ہے۔

جہانگیر ترین کا کہنا تھاکہ کراچی کونظر انداز کیا گیا اس پرتوجہ نہیں دی گئی، شہر میں پانی، سیوریج اور ٹرانسپورٹ کے مسائل ہیں، حیدرآباد میں بھی یونیورسٹی ہونی چاہیے۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں ایم کیوایم کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

اس موقع پر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھاکہ عمران خان کی دعوت پرآئے ہیں، ہمارے درمیان جوکچھ طے پایا ہے وہ آئینی تقاضے اور ملک کی ضرورت ہیں، پی ٹی آئی کے ساتھ مل کرچلیں گے۔

ہم چاہتے ہیں کہ کس طرح وسائل کونچلی سطح تک لیکر جائیں۔۔سندھ کے شہری علاقوں میں بھی ایم کیوایم کا مینڈیٹ تھا۔ان علاقوں اب پی ٹی آئی نے بھی نشستیں جیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی اور خوشحالی پاکستان کی ترقی ہے۔ہم ہر اس قدم کوسپورٹ کریں گے جوپاکستان کی بہتری کیلئے ہوگا۔۔سندھ اورکراچی میں دوبارہ مردم شماری کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایم کیوایم رہنما کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کومنطقی انجام تک پہنچایا جائے گا جب کہ آپریشن میں ہونے والی زیادتیوں کے ازالے پر بھی بات ہوئی ہے۔

خالد مقبول نے کہا کہ کچھ چیزیں طے ہونی باقی ہیں، امید ہے وہ بھی خوش اسلوبی سے طے پاجائیں گی جب کہ وفاقی کابینہ کے حوالے سے بھی بات ہوئی، جیسے ہی کسی نتیجے پر پہنچیں گے میڈیا کو آگاہ کریں گے۔

وفد میں فاروق ستار کی عدم موجودگی کے سوال پر ایم کیوایم رہنما نے کہا کہ فاروق ستار سے کل رات بات ہوچکی اور رابطہ کمیٹی سے بھی بات ہوئی ہے، بہت سے ساتھی ہمارے ساتھ نہیں آسکے ہیں۔

اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے اپوزیشن کو ووٹ دینے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہمارا یہاں موجود ہونا بہت سارے سوالات کا جواب ہے لہٰذا اب افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔

ایم کیوایم نے تحریک انصاف سے کراچی سے متعلق ہر قسم کے امور میں اعتماد میں لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *