ڈپٹی میئر کراچی اور ایم کیو ایم کے ارشد وہرہ پی ایس پی میں شامل

کراچی(بی بی سی ایشیاء) ایم کیو ایم پاکستان کو بڑا دھچکا ، ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرہ پی ایس پی کو پیارے ہوگئے ۔ پریس کانفرنس ایم کیو ایم پاکستان کو چھوڑنے کا اعلان کر دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے جس ذمہ داری پر بٹھایا تھا وہ پوری نہ کرسکے ، آنیوالے دنوں میں مزید لوگ بھی ساتھ آئیں گے ، آنا سبھی نے ہے ۔ ڈپٹی میئر ارشد وہرا ایم کیو ایم پاکستان سے راہیں جدا کر کے پاک سر زمین پارٹی میں شامل ہوگئے ۔ ارشد وہرا پاکستان ہاؤس پہنچے تو پی ایس پی کارکنان نے نعرے لگا کر ان کا استقبال کیا ۔ پریس کانفرنس کے دوران ارشد وہرا نے بڑا اعلان کرکے سب کو حیران کر دیا ۔ انہوں نے کہا کراچی کے عوام کے مجرم ہیں ، بدقسمتی ہے عوام کو صرف دلاسوں کے سوا کچھ نہیں دیا ، ذمے داری پوری نہیں کر سکتے تو بہتر ہے ذمے داری چھوڑ دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ میں ہر تحقیقات کے لئے حاضر ہوں اور مقدمات کا سامنا کروں گا جب کہ پی ایس پی میں شمولیت کے بعد عہدے چھوڑنے کے حوالے سے جو قانونی طریقہ کار ہے وہی اختیار کیا جائے گا ۔ ارشد وہرہ نے یہ اعلان بھی کیا مزید لوگ بھی ایم کیو ایم جلد چھوڑ دیں گے ۔ پی ایس پی کے صدر انیس قائمخانی نے پریس کانفرنس کے دوران ارشد وہرا کو پی ایس پی میں خوش آمدید کہا ۔ ان کا کہنا تھا فاروق ستار اخلاقی ذمے داری کا مظاہرہ کریں اور تمام ارکان اسمبلیوں سے استعفیٰ دیں ۔ انیس قائمخانی نے کہا کہ پی ایس پی میں شمولیت پر ارشد وہرا ایم کیو ایم پاکستان کی نظر میں برے انسان بن جائیں گے ۔ کراچی کے ڈپٹی میئر ڈاکٹر ارشد وہرہ ایم کیو ایم پاکستان کے انقلابی سوچ رکھنے والے بنیادی کارکنوں میں سے ایک ہیں ۔ پروفیشنل انجنیئر اور پیشہ کے اعتبارسے بزنس مین ہیں ۔ مانچسٹر یونیورسٹی سے پولیمر سائنسز میں ماسٹرز کی ڈگری لی جبکہ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی یونیورسٹی آف یونائیٹڈ کنگڈم سے ٹیکسٹائل میں پی ایچ ڈی کی ۔ انسٹھ سالہ ارشد وہرہ دوبار سائیٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین منتخب ہوچکے ہیں ۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کے بھی چیئرمین رہ چکے ہیں ۔ 2013 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ، کئی سٹینڈنگ کمیٹیوں کے رکن رہے ، شہری حکومتوں کے الیکشن کے بعد کراچی کے ڈپٹی میئر مقرر کئے گئے ، 30 اگست 2016 کو انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *